عطا آباد جھیل کنارے ہوٹل کا ایک حصہ سیل: غیر ملکی وی لاگر کی وائرل ویڈیو اور آلودہ پانی کا معاملہ
پاکستان کے زیرِ انتظام گلگت بلتستان نہ صرف پاکستانی سیاحوں بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔
یہاں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش پہاڑی سلسلوں کا سنگم ہو، یا پہاڑوں سے بہتے جھرنے، سرسبز پھلوں کے باغات ہوں یا عطا آباد جیسی جھیلوں کے نظارے جو ہر سیاح کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
تاہم گذشتہ روز سے پاکستان کے شمالی خطے گلگت بلتستان اور عطا آباد جھیل سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ ایک غیر ملکی وی لاگر کی ایک ویڈیو ہے۔
اس ویڈیو میں غیر ملکی وی لاگر نے گلگت بلتستان کی وادی ہنرہ میں عطا آباد جھیل کے کنارے قائم ایک ہوٹل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہاں سے مبینہ طور پر سیوریج کا پانی نکل کر عطا آباد جھیل میں شامل ہو رہا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر گوجال سعادت علی چنگیزی نے اس معاملے پر ہوٹل کے ایک حصے کو سیل کیا ہے جس میں 30 کمرے شامل ہیں۔ ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ہوٹل کے اس حصے سے ’عطا آباد جھیل میں آلودگی پھیلائی جا رہی تھی۔‘ وہاں بڑا واضح فرق ہے۔ پانی گدلا ہورہا ہے اور وہ اس (ہوٹل کی) عمارت سے آرہا ہے۔‘
وہ ویڈیو میں دعویٰ کرتے ہیں کہ ’انھیں ایک مقامی شخص نے اس بارے میں بتایا تھا اور خود یہاں آکر بدبو کو محسوس کرسکتے ہیں۔‘
ہوٹل انتظامیہ کی الزامات کی تردید
تاہم ویڈیو میں غیر ملکی وی لاگر کی جانب سے جس ہوٹل پر عطا آباد جھیل میں مبینہ طور پر سیوریج کا پانی چھوڑنے کا الزام عائد کیا ہے اس کی انتظامیہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔
لکسس ہنزہ کے ڈائریکٹر شان لشاری کا کہنا تھا کہ وائرل ویڈیو میں جو دکھایا گیا ہے کہ پانی آلودہ یا گدلا ہو رہا ہے اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اصل میں حقیقت یہ ہے کہ اُس مقام پر ایک برساتی نالے کا پانی آکر ملتا ہے جس وجہ سے اس کا رنگ گدلا نظر آتا ہے اور یہ قدرتی امر ہے۔‘
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب اس ہوٹل پر عطا آباد جھیل کے پانی کو آلودہ کرنے کے الزامات لگے ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ 'ہمارا عملہ اکثر اوقات گلگت بلتستان میں واقع چھوٹے بڑے ہوٹلوں کے دورے کرتا رہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر قانون بھی حرکت میں آتا ہے۔'
انھوں نے بتایا کہ 'گذشتہ برس اکتوبر میں ایسے ہی معمول کی ایک چیکنگ کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ اس ہوٹل کے مغربی حصے سے عطا آباد جھیل کے پانی کو آلودہ کیا جا رہا تھا۔ جس پر کارروائی کرتے ہوئے اس ہوٹل کو نہ صرف سیل کیا گیا بلکہ اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔'
ای پی اے کے ڈائریکٹر خادم حسین کا مزید کہنا تھا کہ 'اگرچہ آلودہ پانی کی کوئی زیادہ مقدار نہیں تھی اور شاید یہ ہوٹل میں سیاحوں کا رش زیادہ ہونے کے باعث ہوٹل عملے کی غلطی سے ہوا تھا۔'
ای پی اے کے ڈائریکٹر خادم حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ 'ممکنہ طور پر اس ہوٹل کی تعمیر منظور شدہ منصوبے کے مطابق نہیں ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ اس ہوٹل کی تعمیر کے وقت جاری کیے گئے این او سی میں شرط رکھی گئی تھی کہ وہاں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا جائے گا مگر اس شرط پر عمل نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب ہوٹل کے ڈائریکٹر شان لشاری نے ان الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ہوٹل کا نقشہ حکومت سے منظور شدہ ہے۔
تاہم انھوں نے متعدد بار سوال کیے جانے کے باوجود واٹر فلڑیشن پلانٹ کے حوالے سے براہ راست کوئی جواب نہیں دیا اور کہا کہ حکومت کی جانب سے وقتاً فوقتاً مختلف نوٹیفکیشن جاری ہوتے رہتے ہیں جن پر وقت کے ساتھ عمل ہوتا رہتا ہے۔
ای پی اے کے ڈائریکٹر خادم حسین کا کہنا تھا کہ عطا آباد جھیل کے پانی کو آلودگی سے بچانے کے لیے اس لیے بھی زیادہ کوشش کی جارہی ہے کیونکہ مستقبل میں ہنزہ میں پانی کی قلت کو دور کرنے کے لیے عطا آباد جھیل سے پانی کا ایک منصوبہ بھی شروع کیا جا رہا ہے۔
راولاکوٹ کی بنجوسہ جھیل کی برف میں دھنس جانے والے سیاح: ’کلمہ پڑھنا شروع کر دیا تھا، ایسا لگا کہ اب آخری وقت آ گیا ہ
ے‘
ہماری دوسری پوسٹ پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں ۔۔۔۔۔

Comments
Post a Comment