عمران خان جیسے لیڈر، جن کے پاس عالمی اثر و رسوخ اور عوامی حمایت ہے، موجودہ عالمی بحران میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں

 ایرک لیوس کا مؤقف ہے کہ عمران خان جیسے لیڈر، جن کے پاس عالمی اثر و رسوخ اور عوامی حمایت ہے، موجودہ عالمی بحران میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اسی لیے ان کی رہائی ضروری ہے۔


ایرک کہتا ہے کہ عمران خان تقریباً تین سال سے جیل میں ہیں، جبکہ ان کے بیٹے جو برطانیہ میں رہتے ہیں، اپنے والد سے کئی سال سے نہیں مل سکے کیونکہ حکومت انہیں ویزا نہیں دے رہی۔ 


عمران خان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ ملک چھوڑ کر لندن، دبئی یا نیویارک میں آرام دہ زندگی گزار سکتے تھے، لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اپنے ملک کو چھوڑنے کے بجائے جیل میں رہنا قبول کرتے ہیں۔جیسے ماضی میں گاندھی اور نیلسن منڈیلا نے کیا۔  


عمران خان سیاست میں آنے سے پہلے ہی ایک عالمی شہرت یافتہ کرکٹر اور بااثر شخصیت تھے، جو کرپشن اور فوجی بالادستی کے خلاف ملک کو بدلنے کے لیے واپس آئے۔


ایرک نے موجودہ پاکستانی قیادت پر شدید کڑی تنقید کی گئی ہے کہ وہ عوام کی واضح حمایت کے باوجود عمران خان کو دبانے اور نظر انداز کرنے میں مصروف ہیں۔ اس قیادت کی خود غرضی اور طاقت کے نشے نے انہیں عوامی مفاد اور جمہوری اصولوں سے بالکل بے نیاز کر دیا ہے، جبکہ ملک کی اسٹریٹیجک حیثیت ان کے لیے مزید طاقت اور فائدے کا ذریعہ بن رہی ہے، نہ کہ قومی خدمت کا موقع۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جو ذاتی مفاد اور سیاسی خود غرضی کے لیے انصاف اور عوام کی رائے کو روند رہا ہے۔


ماضی میں پاکستان معاشی طور پر مضبوط تھا، مگر وقت کے ساتھ بدعنوانی نے اسے کمزور کر دیا

عمران خان نے 2018 میں اقتدار میں آ کر روایتی سیاسی نظام کو چیلنج کیا۔لیکن طاقتور حلقوں کو خطرہ محسوس ہوا اور انہیں ہٹا دیا ۔



 

مزید اپ ڈیٹس اور تازہ ترین خبروں کے لیے پڑھیں اور ہمیں حقیقی نیوز نیٹ ورک فالو کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اسکول بند ہونے کی خبر *غلط* ہے! محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کی تردید:

بریکنگ نیوز 🚨سینئیر صحافی حامد میر کا خوفناک تہلکہ خیز انکشاف اندر کی خفیہ سٹوری بریک کردی

ایران، آئل ٹینکرز اور پاکستان: حقیقت، الزامات اور عوامی مفاد کا سوال