امریکہ میں مقیم عرب سکالر اور تجزیہ کار سمیع الحامدی کا عمران خان، جنرل عاصم منیر اور جنرل باجوہ سے متعلق ٹویٹ!
ایک برادرانہ یاددہانی:
کسی بھی مسلمان پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ (س
ابق آرمی چیف) باجوہ اور "حافظ" عاصم منیر کے عمران خان کو جیل میں ڈالنے کے فیصلے کا کسی بھی طرح دفاع کرے۔
کوئی بھی مسلمان کسی بھی ناانصافی کا دفاع کرنے کا پابند نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے [سورة المائدة: 8]: "اے ایمان والو! اللہ کے لیے انصاف کی گواہی دیتے ہوئے مضبوطی سے کھڑے ہو جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر نہ ابھارے کہ تم عدل چھوڑ دو۔ عدل کرو، یہی تقویٰ کے قریب تر ہے، اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے۔"
کسی بھی مسلمان پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی لفظی شعبدہ بازی (verbal gymnastics) کرے کہ باجوہ اور منیر کا کوئی غیر منصفانہ فعل محض اس لیے جائز ہے کہ "یہ سیاست ہے" یا یہ کہ "عمران خان نے اقتدار میں آنے کے لیے پہلے خود ان سے ڈیل کی تھی"۔
کسی مسلمان پر یہ لازم نہیں ہے کہ وہ افرا تفری کے خوف سے کرپشن اور ظلم کا انتخاب کرے، یا اپنی خدا داد عزتِ نفس کو فوجی بوٹوں کے سامنے سرنگوں کر دے۔ "فاروقِ اعظم" عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کبھی پہلے (ظلم) کا مطالبہ نہیں کیا تھا اور "سیف اللہ" خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کبھی دوسرے (ذلت) کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔
کسی ریاست کی سلامتی کا تحفظ سب سے پہلے فوج نہیں بلکہ 'عدل و انصاف' کی پاسداری کرتی ہے۔ خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ کو خراسان کے ایک گورنر نے خط لکھا اور شکایت کی کہ وہ ایسے سرکش قبائل کے نرغے میں ہیں جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ اس نے خلیفہ سے مطالبہ کیا کہ "ریاست کو مزید افواج سے قلعہ بند (مضبوط) کرنے" کے لیے فوجی اخراجات اور سیکورٹی فورسز بڑھائی جائیں۔ خلیفہ نے مزید فوج بھیجنے سے انکار کر دیا اور جواب دیا: "اسے (ریاست کو) عدل کے ساتھ قلعہ بند کرو۔" تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کی کتنی ہی بڑی افواج انصاف پر مبنی چھوٹی قوتوں کے سامنے ڈھیر ہو گئیں۔
پاکستان کی سلامتی کو سب سے بڑا خطرہ بھارت یا اس کے پڑوسیوں سے نہیں ہے۔ اسے اصل خطرہ کرپشن، ناانصافی اور "قومی سلامتی" کے نام پر ظلم کو معمول بنانے سے ہے۔ ابنِ خلدون نے کہا تھا کہ: "[ایسا] ظلم تہذیبوں کی تباہی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔"
پاکستان کا درد رکھنے والے وہ لوگ نہیں ہیں جو آپ کو یہ بتائیں کہ ایک بے گناہ آدمی کا جیل میں ہونا ناگزیر ہے یا استحکام اور "قومی سلامتی" کے تحفظ کا قدرتی نتیجہ ہے۔ پاکستان کا اصل خیر خواہ وہ ہے جو ہر جگہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھائے گا تاکہ اس تہذیبی تباہی کو روکا جا سکے جس کی پیش گوئی ابنِ خلدون اور ہر بڑے تاریخ دان نے کی ہے۔
اللہ پاکستان کو اس سب سے بڑے خطرے سے محفوظ رکھے جس کا اسے آج سامنا ہے۔

Comments
Post a Comment