قصور، آلہ آباد کا افسوسناک واقعہ قصور کے علاقے آلہ آباد میں ایک طالبہ
قصور، آلہ آباد کا افسوسناک واقعہ
قصور کے علاقے آلہ آباد میں ایک طالبہ کی اپنے کلاس فیلو عامر سے دوستی ہوگئی۔ وقت کے ساتھ بات آگے بڑھی اور عامر اس سے ملنے لگا۔ جب لڑکی کو احساس ہوا کہ وہ غلط راستے پر جا رہی ہے تو اس نے عامر سے کہا کہ وہ اس سے
شادی کرلے۔
لیکن عامر نے محبت کا جھانسہ دے کر اس کی نازیبا ویڈیوز بنا لیں اور پھر اپنا اصل چہرہ دکھانا شروع کر دیا۔ عامر کا والد علاقے کا ایک بااثر اور نامی گرامی شخص ہے، مگر اس نے اپنے بیٹے کی ایسی تربیت کی کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہا۔
عامر لڑکی کو بلیک میل کرتا رہا۔ وہ کہتا کہ زیور اور پیسے لے کر آؤ، ورنہ ویڈیوز انٹرنیٹ پر اپلوڈ کر دوں گا۔ لڑکی روتی رہی اور اسے خدا کا خوف دلانے کی کوشش کرتی رہی۔ ایک بار اس نے اپنی سونے کی بالیاں بھی دے دیں، مگر اس کے باوجود عامر نے بلیک میلنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
آخرکار لڑکی نے اپنے والد کو سارا معاملہ بتا دیا۔ عزت بچانے کی خاطر اس کی والدہ عامر کے گھر گئیں اور اس کے والد سے نکاح کی درخواست کی، مگر اس نے تکبر سے جواب دیا کہ ایسی کئی لڑکیاں اس کے بیٹے کے پیچھے ہیں۔
بعد ازاں عامر نے 14 فروری کو چار لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ لڑکی نے روتے ہوئے کہا کہ وہ خودکشی کر لے گی، تو عامر نے بے رحمی سے جواب دیا: “میری طرف سے چاہے مر جاؤ، لیکن پیسے لا کر دو۔”
لڑکی نے سکرین ریکارڈنگ آن کی اور اپنے دوپٹے سے پنکھے کے ساتھ لٹک کر اپنی زندگی ختم کر لی۔
چار دن بعد ایف آئی آر درج ہوئی، مگر اس میں کمزور دفعات لگائی گئیں۔
لڑکی اپنی غلطی کی سزا اپنی جان دے کر بھگت گئی، لیکن سوال یہ ہے کہ عامر اور اس کے والد جیسے بااثر لوگ کب قانون کے کٹہرے میں آئیں گے؟ کیا معزز کہلانے والے لوگ بچیوں کو بلیک میل کر کے پیسے بٹورتے رہیں گے؟

Comments
Post a Comment