’فلائٹ کروا رہے ہیں جلدی سے پکڑ‘: ناٹنگھم سے لاہور تک کا ناقابلِ یقین سفر کرنے والے سکندر رضا نے بازی قلندرز کے حق میں کیسے پلٹی

’اوہ خدا کے بندو۔۔۔ پیدل ہی بلا لیا ہے۔‘

لاہور قلندرز کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر سکندر رضا کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب وہ قذافی سٹیڈیم میں داخل ہو رہے ہیں جس کے بعد ٹیم کے مالکان اور ان کے دیگر ساتھ ان کا استقبال کرتے ہیں۔ 

رضا نے پی ایس ایل کی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا‘ پی ایس ایل کا فائنل میچ پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث رہا۔ حارث رؤف نے جب محمد عامر اور ابرار احمد کو صفر پر پویلین واپس بھیجا تو فینز سے خوب داد سمیٹی۔  سکندر رضا کے لیے صارفین نے نہ صرف دل کھول کر داد دی بلکہ میچ سے چند منٹ قبل ان کی سٹیڈیم تک آمد بھی موضوع بحث رہی۔  کرکٹ پر نظر رکھنے والے ساج صادق نامی صارف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’سارا کریڈٹ سکندر کو جاتا ہے جس نے یہ ممکن کر دکھایا۔‘  آخری اوور میں جب جیت کے لیے لاہور قلندرز کو چھ گیندوں پر 12 رنز درکار تھے تو ہر ہر بال پر سوشل میڈیا کے صارفین اس کانٹے دار مقابلے میں تبصرہ کرتے ہوئے میچ کی سنسنی حیزی سے لطف لیتے رہے۔  سکندر رضا کے آخری اوور میں کھیل کا پانسہ پلٹانے والے چوکے اور چھکے کو شائقین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔  میویرک نامی صارف نے لکھا کہ ’ہرارے سے لاہور تک! رضا نے پی ایس ایل کی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا ہے۔ کیا شاندار رات تھی

لگ بھگ آدھا گھنٹہ پہلے تک بھی لاہور قلندرز کے کیمپ میں اس بارے میں غیریقینی تھی کہ آیا سکندر رضا یہ میچ کھیلیں گے بھی یا نہیں۔۔۔

ٹاس سے 10 منٹ قبل یعنی چھ بج کر 50 منٹ پر ان کی فلائٹ لاہور کے علامہ اقبال ایئرپورٹ پر لینڈ ہوئی، شام کے چھ بج کر 54 منٹ پر ان کی ایئرپورٹ سے نکلتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی جس میں انھیں فوری طور پر ایئر پورٹ سے لے جانے کے لیے اہلکار ان کے اردگرد موجود ہیں

سنیچر کو سکندر رضا زمبابوے کی جرسی میں انگلینڈ کے خلاف ناٹنگھم میں کھیلے جانے والے سیریز کے واحد ٹیسٹ میچ کو بچانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم میچ انگلینڈ کے وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے زمبابوے کی ہار پر ختم ہو گیا۔


’ثمین بھائی کی مجھے کال آئی کہ فلائٹ کروا رہے ہیں جلدی سے پکڑ۔‘ یہ فلائٹ برمنگھم سے دبئی کے لیے رات ساڑھے نو بجے کی تھی۔


’وہاں سے پھر میں ہوٹل آیا، سامان بیگ میں پھینکا اور دوست کو فون کیا جو مجھے ناٹنگھم سے برمنگھم چھوڑ آیا۔‘


دبئی پہنچ کر سکندر رضا ڈیڑھ گھنٹہ ڈرائیو کر کے ابوظہبی آئے اور پھر وہاں سے لاہور۔


انھوں نے میچ کے بعد ٹی وی براڈکاسٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے جمعے کو 25 اوورز بولنگ کی، سنیچر کو 20 اوورز بیٹنگ کی، سنیچر کو رات کا کھانا ناٹنگھم میں کھایا، اتوار کو ناشتہ دبئی میں کیا، دوپہر کا کھانا ابوظہبی میں اور رات کا کھانا لاہور میں۔

ٹھیک سے وارم اپ کیے بغیر سکندر رضا نے اپنے بولنگ سپیل کی دوسری ہی گیند پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے رائیلی روسو کی اہم وکٹ حاصل کی اور پھر جب ان کی بیٹنگ کی باری آئی تو معاملات لاہور قلندرز کے ہاتھوں سے نکلتے دکھائی دے رہے تھے۔


202 رنز کے تعاقب میں لاہور کو آخری 20 گیندوں پر 57 رنز درکار یعنی 17 کی اوسط سے رنز کرنے تھے۔ سکندر رضا نے آتے ہی محمد عامر کو اپنی پہلی دو گیندوں پر ایک چوکا اور چھکا لگا دیے۔


دوسرے اینڈ پر موجود کوشل پریرا عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے رہے اور اس بات کو یقینی بنایا کہ قلندرز کو آخری اوور میں 13 رنز درکار ہوں۔


ان کی 31 گیندوں پر 62 رنز کی اننگز کی بدولت انھیں پلیئر آف دی میچ کا ایوارڈ ملا جبکہ آخری اوور میں وننگ رنز سکندر رضا کے حصے میں آئے اور ساتھ ہی ٹورنامنٹ کے بہترین آلراؤنڈر کا ایوارڈ بھی۔


یہ لاہور قلندرز کا تیسرا ٹائٹل تھا اور یہ تینوں ہی شاہین آفریدی کی کپتانی میں جیتے گئے ہیں جنھیں گذشتہ کئی ماہ سے ان کی بولنگ فارم کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا تھا اور انھیں بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے بھی پاکستان کے سکواڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا تھا۔


قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے پی ایس ایل 10 کے آخری معرکے میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز بنائے اس دوران حسن نواز اور فہیم اشرف کی جارحانہ بلے بازی نمایاں رہی۔

لاہور قلندر نے 202 رنز کا ہدف مکمل کرنے کے لیے اننگز کا آغاز کیا تو فخر زمان اور محمد نعیم نے جارحانہ انداز اپنایا۔


جب فخر زمان 11 رنز بنا کر ابرار احمد کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو لاہور تین اوورز میں 39 رنز بنا چکا تھا۔


لاہور قلندرز کے لیے اس ٹورنامنٹ کے ایمرجنگ کرکٹر محمد نعیم نے دھواں دھار انداز میں کھیلتے ہوئے 27 گیندوں میں چھ چھکے اور ایک چوکا لگایا اور اننگز کو تیزی سے آگے بڑھایا تاہم کھیل کے نویں اوور میں فہیم اشرف کی گیند پر وہ 46 رنز بنا کر آوٹ ہو گئے۔


عبداللہ شفیق نے گیارہویں اوور میں چھکا مار کر لاہور قلندر کا سکور 103 پر پہنچایا تاہم اس کے بعد وہ عثمان طارق کی گیند پر 41 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔


17ویں اوورز کے اختتام تک لاہور قلندرز کے چار کھلاڑیوں کے نقصان کے ساتھ 155 رنز ہوئے تھے۔


لاہور قلندرز کی جانب سے راجا پکسے صرف 14 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ تاہم اس کے بعد پریرا اور سکندر رضا کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

رضا نے پی ایس ایل کی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا‘

پی ایس ایل کا فائنل میچ پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث رہا۔ حارث رؤف نے جب محمد عامر اور ابرار احمد کو صفر پر پویلین واپس بھیجا تو فینز سے خوب داد سمیٹی۔


سکندر رضا کے لیے صارفین نے نہ صرف دل کھول کر داد دی بلکہ میچ سے چند منٹ قبل ان کی سٹیڈیم تک آمد بھی موضوع بحث رہی۔


کرکٹ پر نظر رکھنے والے ساج صادق نامی صارف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’سارا کریڈٹ سکندر کو جاتا ہے جس نے یہ ممکن کر دکھایا۔‘


آخری اوور میں جب جیت کے لیے لاہور قلندرز کو چھ گیندوں پر 12 رنز درکار تھے تو ہر ہر بال پر سوشل میڈیا کے صارفین اس کانٹے دار مقابلے میں تبصرہ کرتے ہوئے میچ کی سنسنی حیزی سے لطف لیتے رہے۔

رضا نے پی ایس ایل کی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا‘ پی ایس ایل کا فائنل میچ پاکستان کے سوشل میڈیا پر بھی موضوعِ بحث رہا۔ حارث رؤف نے جب محمد عامر اور ابرار احمد کو صفر پر پویلین واپس بھیجا تو فینز سے خوب داد سمیٹی۔  سکندر رضا کے لیے صارفین نے نہ صرف دل کھول کر داد دی بلکہ میچ سے چند منٹ قبل ان کی سٹیڈیم تک آمد بھی موضوع بحث رہی۔  کرکٹ پر نظر رکھنے والے ساج صادق نامی صارف نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’سارا کریڈٹ سکندر کو جاتا ہے جس نے یہ ممکن کر دکھایا۔‘  آخری اوور میں جب جیت کے لیے لاہور قلندرز کو چھ گیندوں پر 12 رنز درکار تھے تو ہر ہر بال پر سوشل میڈیا کے صارفین اس کانٹے دار مقابلے میں تبصرہ کرتے ہوئے میچ کی سنسنی حیزی سے لطف لیتے رہے۔  سکندر رضا کے آخری اوور میں کھیل کا پانسہ پلٹانے والے چوکے اور چھکے کو شائقین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔  میویرک نامی صارف نے لکھا کہ ’ہرارے سے لاہور تک! رضا نے پی ایس ایل کی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا ہے۔ کیا شاندار رات تھی



سکندر رضا کے آخری اوور میں کھیل کا پانسہ پلٹانے والے چوکے اور چھکے کو شائقین کی جانب سے خوب سراہا گیا۔


میویرک نامی صارف نے لکھا کہ ’ہرارے سے لاہور تک! رضا نے پی ایس ایل کی تاریخ میں اپنا نام رقم کیا ہے۔ کیا شاندار رات تھی


Read more....


Comments

Popular posts from this blog

پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اسکول بند ہونے کی خبر *غلط* ہے! محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کی تردید:

بریکنگ نیوز 🚨سینئیر صحافی حامد میر کا خوفناک تہلکہ خیز انکشاف اندر کی خفیہ سٹوری بریک کردی

ایران، آئل ٹینکرز اور پاکستان: حقیقت، الزامات اور عوامی مفاد کا سوال