جب صبح سوئٹزرلینڈ میں اپنے گھر کا اخبار کھولا، تو دل خوشی سے بھر گیا
آج جب صبح سوئٹزرلینڈ میں اپنے گھر کا اخبار کھولا، تو دل خوشی سے بھر گیا۔
پورے تین صفحات پاکستان کی خوبصورتی، مہمان نوازی اور شمالی علاقوں کی دلکش وادیوں کے بارے میں تھے۔
اخبار کا سرورق پاکستان کے برف سے ڈھکے بلند و بالا پہاڑوں کی تصاویر سے مزین تھا۔
یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو خیرہ کر دینے والے تھے بلکہ یہ پیغام بھی دے رہے تھے کہ پاکستان، دنیا کے خوبصورت ترین ممالک میں شامل ہے۔
اسی خوشی کو آپ سب دوستوں کے ساتھ بانٹنے کے لیے میں نے اس جرمن زبان میں چھپے سفرنامے کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے تاکہ آپ خود دیکھ سکیں کہ یورپ میں پاکستان کو کس قدر دلچسپی اور حیرت سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ صرف ایک سیاحتی رپورٹ نہیں، بلکہ پاکستان کے خوبصورت چہرے کی پہچان ہے۔
آئیں، ہم سب مل کر اپنے وطن کے ان حسین پہلوؤں کو دنیا کے سامنے لائیں۔
پاکستان، ایک دلکش اور محفوظ سیاحتی جنت ہے
ترجمعہ تحقیق و تحریر ارباب فاروق جان
پاکستان | سفر
مختصر اور جامع (KURZ UND KNAPP)
پہنچنا:
زیورخ سے براہِ راست کوئی پرواز نہیں۔ یا تو ابوظہبی یا دوحہ کے ذریعے اسلام آباد پہنچا جا سکتا ہے۔
داخلہ:
پاکستان کا ویزا اور سوئس شہریوں کے لیے آن لائن ای ویزا دستیاب ہے۔ پاسپورٹ کی مدت کم از کم چھ ماہ ہونی چاہیے۔
سیاحت:
نارتھ ٹورز نامی کمپنی گلگت بلتستان کے لیے 14 روزہ نجی ٹور پیش کرتی ہے۔ قیمت تقریباً 4,200 سوئس فرانک فی شخص ہے۔
(شامل ہیں: پروازیں، گائیڈ، ڈرائیور، ہوٹل اور کھانے)
سیکیورٹی صورتحال:
خطرناک علاقوں (جیسے کہ سابق قبائلی علاقے، بلوچستان، سرحدی علاقے) سے گریز کیا جانا چاہیے۔ گلگت بلتستان سیاحوں کے لیے محفوظ سمجھا جاتا ہے۔
رہائش:
گلگت میں Serena Hotel (ڈبل روم 120 فرانک سے شروع)، Karimabad میں Luxus-Hotel Darbar (70 فرانک)۔
بہترین وقت:
موسم بہار (اپریل سے جون) اور خزاں (ستمبر سے نومبر) بہتر وقت ہیں۔
عمومی معلومات:
https://haqeeqinewsnetwork.blogspot.com
ہنزہ ویلی میں عطا آباد جھیل: رنگ برنگی کشتیاں پانی میں جھول رہی ہیں۔
• سجائے ہوئے ٹرک، جو اس علاقے کی پہچان ہیں۔
• قراقرم ہائی وے، دنیا کی بلند ترین پکی سڑکوں میں سے ایک۔
• گھلاریت، جسے “منی سوئٹزرلینڈ” کہا جاتا ہے۔
ہنزہ وادی میں: راکاپوشی کے سامنے ایک لکڑی کی جھونپڑی
“یہ ہے دنیا کے سب سے خوبصورت مقام کا دروازہ”
اس طرح کہتے ہیں مقامی لوگ، جب سیاح خنجراب پاس عبور کرتے ہیں اور پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ 4693 میٹر کی بلندی پر، چین کی سرحد پر، یہ دروازہ کھلتا ہے ایک قدرتی جنت کی طرف۔ ہنزہ وادی، نگر اور گھلاریت کے علاقے وہ ہیں جہاں سبزہ، گلیشیئر، پہاڑ اور شفاف پانی کی نہریں ایک دوسرے سے ملتی ہیں۔
کریم آباد میں، 2500 میٹر کی بلندی پر، لکڑی کے گھروں کے پیچھے راکاپوشی (7788 میٹر) اپنی برف پوش چوٹی کے ساتھ کھڑا ہے۔ مقامی لوگ اکثر یہاں کے سیاحوں کو “منی سوئٹزرلینڈ” کا لقب دیتے ہیں۔
ہنزہ وادی 3000 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ پہلے یہاں کے باسی درختوں پر شہد کی مکھیوں کے چھتے رکھتے تھے اور ان کی پرورش کرتے تھے۔ اب وہ ہوٹل، گیسٹ ہاؤسز اور ریسٹورنٹس چلاتے ہیں۔
سیاح اس علاقے میں پہاڑوں کی سیر کے لیے آتے ہیں۔ یہاں کئی مشہور ٹریکنگ راستے ہیں، جیسا کہ راکاپوشی بیس کیمپ، التر بیس کیمپ، یا پھنڈر لیک۔ تجربہ کار گائیڈز موجود ہیں۔
قراقرم ہائی وے دنیا کی بلند ترین پکی سڑکوں میں سے ایک ہے۔ اس پر سفر ایک ناقابلِ فراموش تجربہ ہے۔ سڑک بعض جگہوں پر اتنی تنگ ہو جاتی ہے کہ صرف ایک گاڑی ہی گزر سکتی ہے۔ پہاڑوں پر بل کھاتی ہوئی یہ سڑک، راولپنڈی سے لے کر چینی سرحد تک جاتی ہے۔
ترجمعہ تحقیق و تحریر ارباب فاروق جان
• خنجراب پاس: چین کے بارڈر پر واقع، 4693 میٹر بلند


Comments
Post a Comment