(گلگت بلتستان کے جوانوں کی خودداری) تحریر: اکرم چوہدری
سترہ اٹھارہ سالہ اسٹوڈنٹ کے پھٹے پرانے جاگرز کے اندر سے جھانکتا ہوا اسکا انگوٹھا مجھے پچھلے دو دن سے پریشان کر رہا تھا اور مجھے اپنے پاوں میں موجود Skechers کے میڈیکیٹڈ شوز کاٹنے لگتے ۔ ٹانگوں میں عجیب سا اسٹریس آجاتا ، اور میرے لیے چلنا دشوار ہوجاتا ۔
گورنمنٹ کالج کراچی میں گلگت اسکرود سے اسکالر شپ پر آنے والے اسٹوڈنٹس میں مجھے ایک چیز سب سے زیادہ اچھی لگتی تھی وہ تھی ان کی خود داری اور عورت کی دل سے عزت کرنا۔۔۔۔۔
یہ روشن آنکھوں ، اور اجلے چہروں والے بچے کچھ ہی مہینوں کے بعد کراچی کی گرمی کے عادی نہ پاتے تو اکثر بیمار ہو جاتے، ان کے شہر کے مالی طور پر مستحکم کچھ لوگوں نے ان کے لیے کراچی میں فری ہوسٹل کی سہولت دے دی تھی جس پر پورے شہر کے بچوں میں اسکالر شپ کے لیے سخت مقابلہ ہوتا اور اس میں سے بہترین ،محنتی بچے ہمارے کالج میں آتے ،اور گذشتہ پانچ سالوں میں ،میں نے انہیں اسکالر شپ پر میڈیکل، انجنرئنگ اور آئی بی اے میں نمایاں پوزیشنز لیتے دیکھا۔
اپنے شہر سے اچھے مستقبل کی تلاش میں جب یہ بے شمار خواب آنکھوں میں سجائے ہمارے پاس پہنچتے تو کئی بار مجھے ان پر رشک تو کبھی ہمدردی ہوتی ، یہ پورے ایک سال میں صرف ایک بار اپنے علاقوں گلگت اسکردو کا رخ کرتے تھے اور اسکی وجہ کئِ بار انکی کمزور مالی پوزیشن اور کبھی کراچی سے گلگت اور اسکردو کی زمینی سفر کی دشواریاں تھیں۔
وہ بچہ ہمیشہ میرے سبجیکٹ میں اس لحاظ سےپیپر ایٹمپ کرتا کہ مجھے مشکل میں ڈال دیتا کہ میں اس کے نمبر آخر کہاں سے کاٹوں ۔،؟ لفظ جیسے موتیوں میں پروئے ہوئے ہوں ، تشریحات، اقتباسات کی تشریح ہر لحاظ سے
اسکا پرچہ ایک خوبصورت شاہکار کی مانند دیکھائی دیتا ۔
اسکی سفید شرٹ کثرت دھلائی کی وجہ سے کافی زیادہ بوسیدہ ہو چکی تھی اور سفید رنگ میں پیلاہٹ سی جھلکنے لگی تھی ،اسکے جاگرز دو سالوں میں تقریبا پھٹ چکے تھے اور اس میں سے جھانکتا اسکے پیر کا انگوٹھا اپنی عریانی پر اکثر شرمندہ دیکھائی دیتا تھا ، اسکی کوشش ہوتی کہ وہ کلاس روم کے کونے میں رکھی کرسی پر بیٹھے اور وہ دانستہ اپنے انگوٹھے کو اپنے پیروں میں رکھے پرانے بیگ کے پیچھے چھپانے کی کوشش کرتا اور کوشش میری نظروں میں آکر مجھے بے سکون کر دیتی ۔۔۔۔
خود دار لوگوں کی مدد کرنا ،بذات خود ایک بڑا امتحان ہوتا ہے، کہ آپ کس طرح سے انہیں آفر کریں کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔
میری اس دن ایگزام ڈیوٹی تھی اور اتفاق سے وہ اس کمرہ امتحان کا آخری اسٹوڈنٹ تھا جو پوری توجہ کے ساتھ میتھ کی پیچدگیوں میں الجھا ہوا تھا۔ اس کے کلاس فیلو ساتھی وقت مقررہ سے آدھا گھنٹہ پہلے ہی پیپر دے کر جا چکے تھے ۔۔۔۔اور وہ ساری دنیا سے بے نیاز اپنے کام میں مگن تھا جب میں نے اچانک اسکے سر پر جا کر پوچھا ۔۔۔۔۔
" آپکے والد کیا کرتے ہیں بیٹا ۔۔۔؟؟؟؟"
"ان کا انتقال ہو چکا ہے ۔۔" اس نے اضطراری انداز میں اپنے پیر کو ہلا کر جواب دیا ۔۔۔
"آپ کو فناشلی اسپورٹ کون کرتا ہے ۔۔؟؟؟" میں نے محتاط انداز میں پوچھا اور اس نے بڑی سادگی سے جواب دیا ۔
"بڑا بھائی، لیکن آجکل اسکے حالات بھی ٹھیک نہیں ۔" وہ افسردہ انداز میں مسکرایا ۔
"آپ کا اُردو کا پیپر بیسٹ تھا ، اور میں ہمیشہ سب سے اچھے مارکس لینے والے اسٹوڈنٹ کو انعام دیتی ہوں ۔۔۔"
"میں جانتا ہوں ۔۔۔۔" وہ مسکرا کر اپنے پیپر پر جھک گیا ۔
" جیسے ہی اس نے ایگزام کا وقت ختم ہونے پر اپنا پیپر مجھے جمع کروایا تو میں نے اپنے بیگ میں رکھا اینولپ اسکی طرف بڑھایا ۔وہ سوالیہ نگاہوں سے میری طرف دیکھنے لگا ۔
"یہ تمہارا انعام ہے ۔۔۔۔۔۔" یہ چار لفظ بولنے میں مجھے چار صدیوں کی مشقت کرنا پڑی ۔
"کیا واقعی ۔۔۔۔۔؟؟؟؟ " وہ تھوڑا حیران ہوا اور کچھ شش و پنج کے بعد اس نے وہ لفافہ میرے ہاتھ سے تھام لیا ۔اب مجھے اپنے پیروں پر پڑا ہوا بوجھ تھوڑا کم محسوس ہوا ۔۔۔
ویک اینڈ کے بعد وہ حسب توقع نئے جاگرز کے ساتھ آیا تو کافی پراعتماد تھا اور اس نے اپنی سیٹ بھی بدل لی تھی ،اب وہ عین روسٹرم کے سامنے بیٹھتا لیکن اسکا سر ہمیشہ جھکا رہتا ، اس کی باڈی لینگویچ چیخ چیخ کر مجھے بتاتی کہ وہ سب جانتا ہے ۔۔۔
ایک ماہ بعد جب ان کی کلاس کا کالج میں آخری دن تھا اور کچھ اسٹوڈنٹس پریکٹیکل کے لیے آئے ہوئے تھے ، وہ میرے پاس آیا، اور اس نے اپنے بیگ سے ایک اینولپ نکال کر میری طرف بڑھایا اور پراعتماد انداز میں کہا ۔
"میڈم یہ آپ کی امانت ۔۔۔۔۔۔"
میں نے حیرانگی سے لفافہ کھولا تو اس کے اندر وہی پانچ ہزار کا نوٹ میرا منہ چڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔اور میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی اس نے مسکرا کر کہا ۔
" میں جانتا ہوں آپ نے اس وقت یہ پیسے میرے جاگرز کے لیے دئیے تھے کیونکہ پری بورڈ ایگزام میں آپکے سبجیکٹ میں احمد کا ایک نمبر مجھ سے زیادہ تھا، اور میں نے سوچا تھا کہ میں یہ پیسے آپکو ضرور واپس کروں گا تاکہ میں کسی اور کا حق نہ کھا سکوں ، یہ میری ایک ماہ کی پڑھائی گئی ٹیوشن کے پیسوں میں سے یہ قرض لٹانے آیا ہوں کیونکہ یہ میں نے قرض کی نیت سے ہی رکھے تھے ۔ "
میں نے مسکراتے ہوئے وہ لفافہ تھام لیا ، میرے پاوں ایک دم ہلکے ہوئے ، اور میں نے شفقت بھری نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا ۔ وہ سیکھ چکا تھا تھا کہ اگر کوئی فیور تمہیں اس وقت ملے جب تم اسکے حق دار نہیں تھے تو تمہیں وہ قرض زندگی میں کبھی نہ کبھی اچھے طریقے سے لوٹانا ہی ہوتا ہے ،اور عزت نفس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ،اور سب سے بڑی بات ،وہ خود دار تھا اور مجھے اسکا اٹھا ہوا سر ہی اچھا لگتا تھا ۔
تحریر : #صائمہ_اکرم_چوہدری

Comments
Post a Comment